Wednesday, 2 September 2015

SHAKEEL BIN HANEEF KI HAQEEQAT

ابرارالحق شار قاسمی                 
9666450014     
ا
ا
عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم  لن تهلك أمة أنا في أولها وعيسى ابن مريم في آخرها، والمهدي في أوسطها ۔ (کنزالعمال جلد ۱۴ صفحہ ۲۶۶ حدیث ۳۸۶۷۱)

ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺارشاد فرماتے ہیں: ’’وہ امت کبھی ہلاک نہیں ہو گی جس کے اول میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور درمیان میں مہدی علیہ الرضوان‘‘۔ 

موجودہ دور میں بہت سے فتنے کام کررہے ہیں ان میں ایک شکیل بن حنیف بھی ہے جو قادیانیت کا نیا روپ لے کر آیا ہے 
وہ کہتا ہے کہ میں ہی مہدی بھی ہوں اور مسیح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام بھی حالانکہ احدیث کی مستند کتابوں میں حضرت مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسی علیہ السلام دونوں کا ذکر موجود ہے اور دونوں کا ذکر حدیث کی کتابوں میں الگ الگ آیاہے اور دونوں کی خصوصیات الگ ہیں کام الگ ہیں  یہاں پر ہم مختصر حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق قرآن واحادیث میں جو ذکر ہے -ان کی موت واقع نہیں ہوئی اور وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لا ئیں گے۔




حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق اسلامی عقائد
     اب قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کی روشنی میں خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے عہد سے لے کر آج تک تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ چلا آیا ہے کہ عیسٰی ، ابن مریم علیہ السلام جو بنی اسرائیل میں مریم کے بطن سے بغیر باپ کے، اللہ کے حکم پر نفخۂ  جبرئیل سے پیدا ہوئے اور پھر بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔ اور یہود یوں نے جب ان کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالی کے حکم سے فرشتے ان کو زندہ آسمانوں پر لے گئے ۔وہ آسمانوں پر حیات ہیں، اور جب قیامت کے قریب دجال ظاہر ہوگا اس وقت یہی عیسٰی جو مریم کے بیٹے ہیں  آسمان سے نازل ہونگے ۔اور دجال جو اس وقت یہود کا بادشاہ اور سردار ہوگا اس کو قتل کریں گے ۔ حضرت عیسی کی خرق عادت پیدائش، آسمانوں پر زندہ اٹھایا جانا، اور قرب قیامت نازل  ہونا سب ان کے امتیازات ہیں جو اللہ نے انہیں عطاء فرمائیں ہیں، اور یہ سب اللہ کی قدرت سے ہے۔
یہ عقیدہ یعنی اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کاملہ سے سید نا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی آسمانوں پر اٹھالیا ہے اور قرب قیامت آپ ہی کا نزول ہوگا ،اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے ، تمام صحابہ ،ؓ تابعین ،تبع تابعین ،ائمہ مجتہدین ،مفسرین، محدثین،فقہا،متکلمین  سبھی کا اس پر اتفاق تھا اور ہے ، نیز چودہ صدیوں سے جملہ اہل اسلام اس بات پر ایمان رکھتے آئے ہیں اور یہ ضروریات دین اور اہل ایمان کے لازمی عقائد کا حصہ ہے،یہ ایسا  عقید ہ ہے جس کا انکار کفر ہے۔
چودہ سو برس سے تسلسل اور تواتر کے ساتھ (صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے ) علماء امت کی جانب سے قرآن و حدیث کی روشنی میں عقائد اسلام سے متعلق ہزاروں کتابوں میں جو کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ان میں حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق متفقہ طور پر یہی عقیدہ مذکور ہے۔اس عقیدہ کے خلاف تیرہویں صدی سے قبل کسی ایک عقیدہ کی کتاب میں ایک سطر تو دور ایک جملہ بھی حوالہ کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا، تاآنکہ تیرہویں صدی میں اس متفقہ عقیدہ و ایمان کے خلاف پہلی بار ایک شاذ آواز لگائی گئی کہ :‘‘نعوذ باللہ حضرت عیسی انتقال کرگئے،  اور اب  ان کا نزول نہیں ہوگا’’۔جبکہ اس طرح کا خیال قرآن و حدیث کی صراحت کے عین خلاف ہے، قرآن وحدیث میں حیات عیسی ، زندہ آسمانوں پر اٹھا لئے جانے اور ان کے نزول سے متعلق جو صراحتیں ہیں ہم ان کو یہاں ذکر کرتے ہیں۔ قرآن کی کچھ صراحتیں اوپر بھی گذریں، مثلاً:
احادیث کے مجموعہ سے علماءومحدثین نے اس موضوع پر نبی ﷺ سے منقول تقریبا ایک سو سے زائد احادیث جمع کی ہیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا ذکرموجود  ہے ۔
اس سلسلہ کی چند آیات اور احادیث یہاں درج کی جاری ہیں اگر کوئی شخص  مفصل حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات سے متعلق مضمون اور تمام احادیث کو دیکھنا چاہتا ہے تو حضرت امام العصر علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب  ترجمہ ’’حیات ابن مریم‘‘ اور حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب کی کتاب ‘‘علاماتِ قیامت اور نزولِ مسیح’’ کو دیکھے۔

قرآنی آیات:
(۱)وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (آل عمران۵۴،۵۵)
ترجمہ :اور کافروں نےایک مکر (حضرت عیسی کے قتل کی سازش کی) اور اللہ تعالیٰ نے بھی(حضرت عیسی کوبچانےکی) (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بہتر تدبیر کرنے  والا ہے،جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں ، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں ، اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے والا ہوں قیامت کے دن تک،  پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔
اس آیت کے تحت اس کی راست نبی ﷺ کی تفسیر کےلئے ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی جس کو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے  نقل کیا ہے ۔
عن الحسن في قوله { إني متوفيك } يعني وفاة المنام رفعه الله في منامه قال الحسن : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لليهود : إن عيسى لم يمت وإنه راجع إليكم قبل يوم القيامة  (تفسیر ابن کثیر ،الدر المنثور:آل عمران آیت ۵۵)
حضرت  حسن بصری سے مرسلا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا کہ حضرت عیسی ابھی تک نہیں مرے ،زندہ ہیں اور وہی قیامت کے دن سے قبل واپس تشریف لائیں گے
(۲) وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (سورۃنساء:۱۵۷،۱۵۸)
ترجمہ:اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو رسول اللہ ہیں قتل کردیا حالانکہ انھوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سُولی پر چڑھایا ،لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اندازوں کے ،اور انھوں نے ان کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالی نے اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ تعالی بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔
یہودیوں کی جانب سے محاصرہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے زندہ رفع جسمانی کا جو وعدہ اللہ تعالی نے کیا تھا جس کا ذکر (آل عمران ۵۶،۵۵) آیت میں آیاہے پورا ہونے کی اطلاع اس آیت میں دی گئی ہے۔
(۳)وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (النسآء:۱۵۹)
ترجمہ :اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے وہ عیسٰی پر ایمان لا ئیں گے ان کی موت سے پہلے
اس آیت میں بِهِ اور مَوْتِهِ دونوں میں ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔اور اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح کردیا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو تمام اہل کتا ب ان پر ایمان لائیں گے اور اس وقت تک آپ کی موت واقع نہیں ہوگی۔ اس آیت میں تمام مفسرین نے یہی معنی بیان کئے ہیں اور اس کی تفسیر بخاری شریف میں  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور روایت لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ الخ کے اخیر میں یہ الفاظ : واقرؤاان شئتم وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ اس روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد والے حالات بیان کرنے کےبعد حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس کی تائید میں یہ آیت پڑھ لو کہ، جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے وہ عیسیٰ پر ایمان لائینگےانکی موت سے پہلے۔
(۴)وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (سورہ زخرف آیت:۶۱،۶۲)
ترجمہ: اور تحقیق وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بلا شبہ علامت ہیں قیامت کی ۔پس اس بارے میں تم ذرہ برابر شک اور تردد نہ کرو اور (اے محمد آپ کہہ دیجئے کہ ) اس بارے میں میری پیروی کرو یہی سیدھا راستہ ہے ۔کہیں شیطان تم کو اس راہ سے نہ روک دے تحقیق وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔
معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو علامتِ قیامت ماننا یہی سیدھا راستہ ہے اور جو اس سے روکے وہ اس آیت کی روسے شیطان کا دوست ہوگا  ۔
(۵)وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ (مائدہ:۱۱۰)
ترجمہ : اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا۔
جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے اتنا مارا کہ ان کی پسلی ٹوٹ گئی،انہیں کانٹوں کا تاج پہنا یا گیا اور انہیں سولی پر چڑھادیا گیا لیکن ان کی موت اس پر واقع نہیں ہوئی بلکہ وہ اس میں بچ گئے اور وہاں سے کشمیر چلے گئے انکا یہ عقیدہ اس آیت کی رو سے بلکل باطل ہو جاتا ہے کیونکہ اس آیت میں تو اللہ تعالی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر احسان کا ذکر فرمارہے ہیں کہ ہم نے تم کو بنی اسرائیل کی دسترس سے محفوظ رکھا۔ قرآن مجید کی بیان کردہ صراحت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو دشمنوں کی ہر گزند اور تکلیف سے محفوظ رکھا ہے۔
     (۶)إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا (مائدہ:۱۱۰)
 ترجمہ : اور جب اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ بن مریم میرا انعام یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا جبکہ میں نے تم کو روح القدس سے امداد اور تائید دی ، اورتم باتیں کرتے تھے   لوگوں سے ماں کی گود میں ہی، اور اس وقت بھی جبکہ تم پوری عمر کے ہونگے ۔
 اس آیت میں اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تائید روح القدس کے علاوہ دو انعامات کا ذکر فرمایا ایک یہ کہ بحالت طفولیت جھولے میں باتیں کریں گے ۔جس کی تفصیل سورہ مریم میں موجود ہے ۔اور دوسری بات یہ ہے کہ عالم کہولت یعنی ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ پہلی بات تو ان کے حق میں پوری ہوچکی ہے لیکن دوسری بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی ہے ۔ کیونکہ بالا تفاق  (یہود و نصاری کے مطابق واقعہ صلیب /قتل )اور در حقیقت رفع بحالت جوانی میں پیش آیا ، کہولت کی عمرتو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔ جھولے میں باتیں کرنا یہ خرق عادت ہے اور یہ عظیم الشان انعام ہے مگر کہولت میں باتیں کرنا یہ تو ہر انسان کرتا ہے اس کو یہاں پر ذکر کا مقصد کیا ہے ؟اس ذکر سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ چونکہ آپ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں سب کا اتفاق ہے کہ وہ جوانی میں پیش آیا ہے کہولت کی عمر ابھی نہیں ہوئی تھی ۔ زبان عربی میں لفظ کہولت کا اطلاق ادھیڑ عمر پر ہوتا ہے، یا شادی شدہ شخص پر ہوتا ہے، اور یہ دونوں ہی باتیں حضرت عیسی کے رفع سماوی سے پہلے ان میں نہیں ہوئیں، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ارشاد ربانی غلط یا اس کی بیان کردہ نعمت خلاف حقیقت ہو ، لہٰذا یہ کہنا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اس کے بعد کہولت کی عمر کو پہنچیں گے قرآن یہاں ان کی اسی عمر کے تکلم کو بصراحت با مقصد بیان کررہا ہے۔
احادیث حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام
(۱)عن أَبَي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً ، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ، حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا » . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (بخاری جلد۱ صفحہ ۴۹۰،مسلم ومسند احمد)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ۔بے شک قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے یعنی شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلہ کرینگے ۔اور وہ صلیب کو توڑینگے ،اور خنزیر کو قتل کردینگے اور جنگ کو ختم کردینگے اور مال کی اتنی بہتات کردیں گے کہ کوئی اس کو قبول نہ کریگا اور (اس وقت ) ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہو جائے گا یعنی عبادت کا ذوق اور شوق دلوں میں اس درجہ پیدا ہوجائے گا کہ ایک سجدہ روئے زمین کی دولت سے زیادہ بہتر معلوم ہوگا ،پھر حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ (اسکی تائید کے لیے ) چاہو تو یہ آیت پڑھ لو  (وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ) یعنی کوئی شخص اہل کتاب میں سے نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ ضرور بالضرور عیسیٰ پر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ایمان لے آئے گا،اور قیامت کے دن وہ (عیسیٰ ) ان پر شاہد ہوں گے۔
     (۲)عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِىَ بِى إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى - قَالَ - فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لاَ عِلْمَ لِى بِهَا فَرَدُّوا الأَمْرَ إِلَى مُوسَى فَقَالَ لاَ عِلْمَ لِى بِهَا فَرَدُّوا الأَمْرَ إِلَى عِيسَى فَقَالَ أَمَّا وَجْبَتُهَا فَلاَ يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلاَّ اللَّهُ ذَلِكَ وَفِيمَا عَهِدَ إِلَىَّ رَبِّى عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ وَمَعِى قَضِيبَيْنِ فَإِذَا رَآنِى ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ - (مسند احمدجلد۱صفحہ۳۷۵،ومصنف ابن ابی شیبہ ،سنن بیہقی)
ترجمہ: حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا میں شب معراج میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ملا پھر انہوں قیامت کا تذکرہ کیا اور سب نے اپنے اس امر کی تحقیق کیلئے حضرت ابراہیم کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے قیامت کے وقت کا کوئی علم نہیں پھر سب نے حضرت موسیٰ کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے بھی یہی جوا ب دیا کہ مجھ کو قیامت کے وقت کا علم نہیں پھر انہوں عیسیٰ علیہ السلام کی طر ف رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا علم تو سوائے اللہ تعالی کے کسی کو نہیں مگر جو احکام مجھے دیئے گئے ہیں ان میں ایک بات یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور اس وقت میرے ہاتھ میں دو لکڑیاں ہوں گی جب وہ مجھ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائیگا جیسے سیسہ پگھلتا ہے ۔
(۳)إن أبا هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « كيف أنتم إذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وإمامكم منكم » . رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير ، وأخرجه مسلم من وجه آخر عن يونس . وإنما أراد نزوله من السماء بعد الرفع إليه ‘(کتاب الاسماء والصفات للبيهقي صفحہ ۲۰۱)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری خوشی کا اس وقت کیا حال ہوگا ،جب کہ عیسیٰ بن مریم تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔
اس حدیث میں لفظ من السماء موجو دہے ، جس میں یہ واضح ہے کہ ان کا رفع سماوی ہوا تھا اور قرب قیامت نزول ہوگا، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان الگ الگ شخصیتیں ہیں۔
 (۴) ’’عن عبد الله بن عمر وقال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ينزل عيسیٰ بن مريم الی الارض فيتزوج ويولد له ويمکث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيد فن معی فی قبری فاقوم انا وعيسیٰ بن مريم فی قبر واحد بين ابی بکر وعمر‘‘(ابن الجوزی فی کتاب الوفاء کتاب الاذاعۃصفحہ۷۷ ،مشکوۃصفحہ:۴۸۰ باب نزول عیسیٰ ابن مریم)
ترجمہ: ’’عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے،(اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس برس (زمین پر) ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ قبر میں مدفون ہوں گے اور قیامت کو میں عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ابوبکر ؓ وعمرؓ کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔
(۵) وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم عن الربيع قال : إن النصارى أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فخاصموه في عيسى بن مريم وقالوا له : من أبوه وقالوا على الله الكذب والبهتان . فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم : ألستم تعلمون أنه لا يكون ولد إلا وهو يشبه أباه قالوا : بلى. قال : ألستم تعلمون أن ربنا حي لا يموت وأن عيسى يأتي عليه الفناء قالوا : بلى  (تفسیر ابن جریر جلد ۳ صفحہ:۱۶۳)(تفسیر درمنثور جلد ۲:صفحہ۳)
ترجمہ: ’’ ربیع سے الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاری نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام ابن اللہ نہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے حالانکہ وہ خداء لاشریک بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے  تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے  انھوں نے کہا کیوں نہیں بیشک ایسا ہی ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حی لایموت یعنی زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور عیسی علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے انھوں نے کہا کیوں نہیں بیشک۔
اس حدیث سے بھی واضح ہوا کہ ان کو موت اور فنا ابھی نہیں آئی ہے، ہاں نزول کے بعد موت اور فنا ان پر آئے گی۔
(۶)عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم  لن تهلك أمة أنا في أولها وعيسى ابن مريم في آخرها، والمهدي في أوسطها ۔ (کنزالعمال جلد ۱۴ صفحہ ۲۶۶ حدیث ۳۸۶۷۱)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺارشاد فرماتے ہیں: ’’وہ امت کبھی ہلاک نہیں ہو گی جس کے اول میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور درمیان میں مہدی علیہ الرضوان‘‘۔ 
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عیسی آخر زمانہ میں آئیں گے۔
ان تمام احادیث میں جو نزول عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہیں جو تقریبا ایک سو سے ذیادہ ہیں ان سب  میں آنے والے کو ابن مریم کہا گیا ہے اور ابن مریم کون ہے یہ سب جانتے ہیں کہ قرآن نے جہاں بھی ابن مریم کا ذکر کیا ہے اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ بات بلکل مسلّم ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ نہ قرآن نے کہیں زکر کیا ہے کہ ابن مریم سے مراد کوئی اور ہے یا اس کا مثل ہوگا اور نہ احادیث میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں پر اس کی وضاحت فرمائی ہےکہ دیکھو قرآن میں جس ابن مریم کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل کے رسول تھے ان کو اور جس کا میں ذکر کررہاں ہو دونوں الگ الگ ہیں کہیں تم نزول ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ کو نہ لینا کیونکہ نصرانی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ دوبارہ واپس آئیں گے تو میری احادیث سے یہ دہوکہ نہ ہوجائے کیونکہ انکو تو موت آچکی ہے اور اب جس کا میں ذکر کررہا ہو وہ مثیل عیسیٰ ہوگا ایسی کوئی ایک حدیث چاہے وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو نہیں ملتی ،تو  احادیث شریف اور قرآنی آیات کریمہ کے مطالعہ کے بعد  کسی کو شک باقی نہیں رہتا کہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور قیامت کے قریب ان کی آمد ہوگی اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر انکی وفات ہوگی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےقبر میں دفن کئے جائیں گے ۔
ان تحریروں کو پڑھنے کے بعد اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث بھی پڑھ لیں تاکہ بات سمجھ میں آجائےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَكُونُ فِى آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لاَ يُضِلُّونَكُمْ وَلاَ يَفْتِنُونَكُمْ۔(صحیح مسلم)
     حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آخری زمانہ میں چند جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو نہ تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے آباء و اجداد نے سنا ہوگا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور کہیں تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کردیں ،ان سے بچنا(صحیح مسلم)۔
ان آیات و احادیث سے ایک طرف یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسی حیات ہیں، دشمنوں نے ان کے خلاف سازش کی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کی سازش سے انہیں ہر طرح محفوظ رکھا، ہر قسم کی گزند اور تکلیف سے انہیں بچایا، اور اپنی مصلحتوں سے ان کو زندہ آسمانوں پر اٹھالیا ، اور قرب قیامت ان کا دوبارہ نزول ہوگا، اور وہ اس وقت اپنی ایک اہم ذمہ داری پوری کریں گے، جس کی پیشین گوئی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث میں تفصیل سے فرمائی ہیں۔ دوسری طرف قرآن و حدیث اور خود انجیل کے حوالہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں جھوٹے نبی اور خود کو مسیح کہنے والے جھوٹے دعویدار بھی پیدا ہوں گے۔اللہ کے رسولوں نے ایسے جھوٹے مدعیان کی پیشین گوئیاں اپنے اپنے دور میں کردی ہیں، اور ساتھ ہی ان جھوٹے مدعیوں سے بچنے کےلئے وہ تمام نشانیاں اور آثار بھی بتلائے جن سے حقیقی اور سچے مسیح جھوٹوں سے صاف ممتاز ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے مدعیان سے بچائے ، اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، اور ہمارا خاتمہ اس حالت میں ہو کہ ہم سچے اور محفوظ ایمان والے ہوں۔

رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ

2 comments:

  1. جزاک اللہ مولاناابرارالحق شاکر صاحب بہت اہم معلومات ہے
    jazakallah maulana Abrar ul haque shaker sahab bohat achchi malomat hay

    ReplyDelete
  2. جزاک اللہ مولاناابرارالحق شاکر صاحب بہت اہم معلومات ہے
    jazakallah maulana Abrar ul haque shaker sahab bohat achchi malomat hay

    ReplyDelete